کنڈلور30؍دسمبر(ایس او نیوز) کنڈلور ٹاؤ ن سے شیموگہ کی طر ف گزرنے والے ہائی وے پر رات کے وقت سبریملا جانے سے پہلے کی تیاریوں میں مصروف ائیپّا بھکت کی موت واقع ہوگئی جس کے بعد جائے حادثہ پر جمع ہونے والے ہجوم نے سڑک روک کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بتایاجاتا ہے کہ کنڈلور کے ذاکر نامی ایک شخص نے اپنی بولیروکار اوورٹیک کرنے کی کوشش میں سامنے سے آنے والی اس موٹر بائک کو ٹکر ماری جس پر ائیپّا بھکت سوار تھا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں گاڑیاں اچھل کر قریبی کھیت میں جاگریں جبکہ موٹر بائک پر سوارروی پجاری سڑک پر گرتے ہی ہلاک ہوگیا۔ حادثہ ہوتے ہی ذاکر اپنی گاڑی چھوڑ کر موقع پر سے فرار ہوگیاتو حادثے کی خبر سن کر وہاں جمع ہونے والا ہجوم مشتعل ہوگیا اور ذاکر کو فوری طور پر گرفتارکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک جام کردی۔جس وقت پولیس ہجوم کو منتشر کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی تو کسی پولیس اہلکار نے کہہ دیا کہ اب مرنے والا تو ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے ، اس کے بعد سڑک جام کرنے سے کیافائدہ ہوگا۔ رات کے اندھیرے کی وجہ سے اس پولیس اہلکار کی شناخت نہیں ہوپائی ، لیکن عوام اس بات پر مزید مشتعل ہوگئے۔اور پولیس اہلکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ لیکن الجھن یہ تھی کہ کس نے یہ بات کہی تھی اسے پہچاننا ہجوم کے لئے مشکل ہوگیا تھا۔
جب کھیت میں گری ہوئی کار اٹھانے کے لئے کرین منگوائی گئی تو احتجاجیوں نے اسے اپنا کام کرنے نہیں دیا اور واپس بھیج دیا۔ پولیس نے مناسب کارروائی کرنے کا بھروسہ بار بار دلایا مگر ہجوم ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ہائی وے پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بندرہی اور علاقے میں صورت حال بڑی کشیدہ ہوگئی۔کنڈلور پولیس کے افسران اور عملے نے بہت مشکل سے حالات کو قابو میں کیا اور مہلوک روی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے سرکاری اسپتال میں منتقل کیا۔حادثے کا کیس درج کرلینے کے بعد پولیس مزید تحقیقات کررہی ہے۔